27 فروری 2011 - 20:30

عبداللہ بن عبدالعزیز کی وطن واپسی پر سعودی نوجوانوں نے ایک بیان جاری کرکے ان سے اصلاحات کے صحیح نفاذ کا مطالبہ کیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے 86 سالہ بیمار بادشاہ ـ جو علاج اور آرام کے بعد بھی نہایت کمزور اور بیمار لگ رہے تھے، ایسے حال میں ریاض پہنچ گئے ہیں کہ علاقے کی انقلابات نے دنیا کی توجہ اپنی جواب مبذول کرائی ہے اور شمالی افریقہ سے گذر کر سعودی عرب کے اندر تک رسوخ کرگئے ہیں اور پھر بحرین کے فرمانروا بھی استقبال کے لئے موجود تھے جو بظاہر بحرین کے اندر عوامی انقلاب کے سامنے عاجز آکر سعودی عرب کے بادشاہ سے اسی سلسلے میں بات چیت کرنے آئے تھے لیکن وہ درحقیقت وہاں اپنے تحفظ کی بھیک مانگنے آئے تھے۔آل خلیفہ کی موجودگی اور بھی فکرمندی کا باعث تھی نازک دل بڈھے بادشاہ کے لئے؛ کیونکہ ایک لاچار اور انقلاب کے سامنے عاجز بادشاہ کا شکست خوردہ چہرہ ایک بیمار اور ملک میں انقلاب کے رونما ہونے سے تشویش میں مبتلا بادشاہ کے لئے بہت ہی زیادہ تشویش کا باعث تھا۔ شاید اسی وجہ سے آل خلیفہ تھوڑی دیر ریاض میں تٹرنے کے بعد ہڑتال زدہ، انقلاب زدہ اور مکمل طور پر معطل شدہ بحرین کے دارالحکومت میں لوٹنے پر مجبور ہوئے جس پر عوامی تسلط سے حاصل شدہ سکون کو آل خلیفہ کے بیرونی اور اندرونی جلادوں کے سفاکانہ حملوں کے ذریعے درہم برہم کرنے اور ملک کو میدان جنگ میں تبدیل کرنے کی خلیفی/ سعودی/ نہیانی / اور آل ثانی فورسز کی کوشش ناکام ہوگئی کیونکہ بحرینی عوام کے پاس ہتھیار نہیں ہیں اور وہ ہتھیار اٹھا کر لڑنے کی کوشش بھی نہیں کررہے ہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ دنیا کی کوئی فوج بھی نہتے افراد کے خلاف زیادہ دیر تک نہیں لڑ سکتے۔ پاکستانی ناول نگار نسیم حجازی نے 1950 کے اواخر میں پاکستان سے دیار حرم تک نامی کتاب میں سعودی حاکموں سے کہا تھا کہ تیل کی دولت عوام میں بھی تقسیم کریں اور اپنے اور عوام کے درمیان فاصلے حائل نہ ہونے دین ورنہ یہ لوگ کسی دن اپنا حق مانگنے کے لئے اٹھیں گے۔اب تقریباً 52 برس بعد عرب ممالک میں ویسی ہی صورت حال دیکھنے میں آرہی ہے اور ملتیں یکے بعد دیگرے جاگ کر اٹھ رہے ہیں۔ بہر حال سعودی نوجوانوں نے ملک میں فوری طور پر معاشی، سماجی، اور سیاسی اصلاحات کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔ بیمار بادشاہ نے وطن لوٹتے ہی عوامی انقلاب کا راستہ روکنے کے لئے عوام کو رشوت دینے کا اعلان کیا اور انہیں اچانک یاد آیا کہ ان کے ملک میں بیروزگار اور بے گھر افراد بھی رہتے ہیں اور غریبوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ لیکن یہ سعودی نوجوان واقعی انقلابی نظر آئے کیونکہ انھوں نے شاید غلامی اور عوامی سوچ اور عوامی رائے کا لمبے عرصے تک مذاق اڑائے جانے کا یہ سلسلہ مزید برداشت نہ کرنے اور بادشاہوں کے وعدوں سے دھوکا نہ کھانے کا عزم کیا ہے اور وہ لوگوں کو بیروزگاری الاؤنس، ہاؤس لون وغیرہ جیسی رشوت کو عوام کی مزید توہین قرار دیتے ہوئے بیان جاری کیا ہے۔نوجوانوں کا یہ بیان سعودی عرب کی بند فضا میں ایک انوکھا اقدام ہے جس کے لئے شیر کا دل اور چیتے کا جگر چاہئے اور سعودی نوجوانوں نے اپنی دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہوئے بیان جاری کیا ہے:اس تاریخی بیان کے خاص خاص نکات:بیان کا عنوان "25 فروری کا بیان" معین کیا گیا ہے (جو عرب ممالک کے انقلابات کے عناوین دیکھ کر سعودی عرب میں انقلاب کے آغاز سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے جو اب شروع ہو چکا ہے، ریلیوں کا آغاز ہوچکا ہے اور اس کے بعد ہر جمعرات کو مشرقی سعودی عرب میں جلوس ہونگے)۔  * علاقے میں شروع ہونے والے انقلابات کی یادآوری کرتے ہوئے بادشاہ کو بتایا کہ علاقے میں انقلابات اور انتفاضات کا آغاز ہوگیا ہے اور یہ انقلابات سعودی عرب میں بھی سرایت کرسکتے ہیں چنانچہ اس ممکنہ صورت حال سے بچنے کے لئے بہتر یہی ہوگا کہ ملک میں حقیقی اور واقعی اصلاحات کا آغاز کردیا جائے۔ * اس بیان میں ملک میں مندرجہ ذیل مطالبات پیش کئے گئے ہیں: مساوات اور برابری، ملک میں فیصلے کرتے وقت عدل و انصاف کا لحاظ، سعودی شہزادوں کو امتیازی مراعات دینے کا مقابلہ، مردوں اور عورتوں کو برابر کے حقوق دینا، عورتوں کے حقوق کا احترام، وزارت عظمی کا منصب انتخابات کے ذریعے عطا کیا جانا، آزادانہ انتخابات کے ذریعے پارلیمان کا انتخاب اور ارکان پارلیمان کا شاہ کی صوابدید پر  عدم انتخاب، قانون کی حکمرانی نہ کہ بادشاہ کی صوابدید کی حاکمیت، آئین میں ترمیم و تعدیل اور خودمختار عدلیہ کا قیام... * 25 فروری کے بیان میں آیا ہے کہ خواتین کو حق رائےدہی اور انتخابات کے لئے امیدوار ہونے کا حق دیا جائے، ریٹائرمنٹ کی عمر کم کردی جائے اور نوجوانوں کے لئے کام کے مناسب مواقع فراہم کئے جائیں۔ * سعودی نوجوانوں نے ایسے قوانین پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے جو زندگی کے تمام امور نیز شہریوں کے خاندانی اور فردی معاملات میں علماء کو مداخلت کا حق دیتے ہیں۔ * سعودی نوجوانوں نے بدنام زمانہ "ہیئت امر بالمعروف و النہی عن المنکر" (سعودی مذہبی پولیس) کی تحلیل یا اس کے اختیارات کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ سعودی نوجوانوں نے اس بیان میں تیونس اور مصر کی مظلوم اقوام سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے جو حال ہی میں طاغوتوں کے تسلط سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انھوں نے سعودی حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تیونس کے سابق ڈکٹیٹر "زین عابدین بن علی" کو فوری طور پر تیونس میں لوٹا دیں اور تیونس کی انقلابی قوم سے معافی مانگیں۔نوجوانوں کے بیان کی اشاعت سے قبل سعودی بادشاہ مراکش سے وطن لوٹے اور انھوں نے عوام کے غیظ و غضب سے بچنے کے لئے بعض مراعاتوں کا اعلان کیا۔......./110